زیادہ تر شوگر ملز نواز شریف اور آصف زرداری کی ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد: 

وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ زیادہ تر شوگر ملز نواز شریف اور آصف زرداری کی ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومت نے 23ملین ڈالر قرضہ لیا، اس سال ہمیں 10 ارب ڈالر قرض واپس کرنا پڑا جب کہ اگلے سال ہمیں 12 بلین ڈالر قرض واپس کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے حالات جن کی وجہ سے آج ایسے ہیں وہ اب حل بتارہے ہیں، ڈالر کی قیمت ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھی، ماضی کی حکومت نے ڈالر مصنوعی طریقے سے روکے رکھا، سال 2008ء سے 2018ء تک پاکستان کے بدترین سال گزرے، ماضی کی بدترین معاشی پالیسیوں کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔

انہوں ںے چینی کے بحران پر کہا کہ 9ہزار ٹن چینی انڈسٹری اور 6 ہزار ٹن چینی عوام کو چاہیے، زیادہ تر شوگر ملز نواز شریف اور آصف زرداری کی ہیں، 90ہزار ٹن چینی اس وقت پرائیویٹ سیکٹر کے پاس پڑی ہوئی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت گندم ریلیز نہیں کررہی جس کی وجہ سے کراچی میں آٹے کی قیمت زیادہ ہے، اندرون سندھ کے لوگوں کی زندگی کی بھی قدر کرنی چاہیے، کراچی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دیگر تمام شہروں سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی منڈی میں بحران ہے، مشکل وقت کا ہمیں بھی باقی دنیا کی طرح مقابلہ کرنا پڑے گا، اس وقت دنیا بھر میں غذائی اشیا کی قیمتیں دس سال کی بلند ترین سطح پر ہیں، بھارت اور بنگلا دیش میں غربت پاکستان سے زیادہ ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بھارت کی فی کس آمدن ہم سے زیادہ ہے دراصل بھارت کی فی کس آمدن میں ٹاٹا اور امبانی جیسے صنعت کاروں کی دولت شامل ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پیٹرول پر حکومت نے مجموعی طور پر 50 ارب روپے ٹیکس کمایا، ہم نے پیٹرول پر ٹیکس کم رکھا ہے اگر ٹیکس قائم رکھتے تو پیٹرول فی لیٹر 180 پر چلاجاتا۔