حقوق طلبہ کارواں اورہمارے مطالبات!

مملکت خداداد پاکستان کی سلامتی کو درپیش مساہل ہوں یا طلبا کی مشکلات اسلامی جمیعت طلبہ نے ہر دور میں اگے بڑھ کر اپنا فرض پورا کیا ہے اور طلبا کی نماہندگی کا حق ادا کیا ہے اس وقت پاکستان میں طلبا سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں بے تحاشا فیسوں نے غریب طلبا کیلیے تعلیمی دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلیے بند کردیے ہیں اب کسی غریب کے بس کی بات نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے ایک طرف فیسیں بے تحاشا ہیں تو دوسری جانب امتحانات میں بے قاعدگیوں نے تعلیم سے طلبا کا اعتماد کھو دیا ہے اسلامی جمیعت طلبہ نے طلبا کو درپیش مشکلات و مساہل کے حل کیلیے حقوق طلبہ روڈ کارواں کا اہتمام کرکے دراصل بے حس حکمرانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے اس وقت حالات بہت خراب ہیں طلبا کی مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں حکمران خواب غفلت سے دوچار ہیں وہ طلبا کی مشکلات کم کرنے کے بجاے اس میں مزید اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں ہر انے والا دن طلبا کیلیے تعلیمی مساہل میں اضافہ کرتا چلا جارہا ہے حکومت کی عدم دلچسپی اور بے حسی کی کیفیت سے ملک بھر میں طلبا کے اندر بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے اس طرح کے بے شمار مساہل ہیں جو ہمارے ملک میں طلبا کو درپیش ہیں طلبا وطالبات کی ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوے اور حکمرانوں کو ان مساہل و مشکلات کے حل کیلیے متوجہ کرنے کیلیے اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان و ازاد کشمیر نے ناظم اعلی اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان حمزہ محمد صدیقی کی قیادت میں پورے ملک میں حقوق طلبہ روڈ کارواں کا انعقاد کیا ہے جو پاکستان و ازاد کشمیر گلگت بلتستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں چلایا جارہا ہے جس میں طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہے اس روڈ کارواں کا بنیادی مقصد طلبا کے حقوق کیلیے اواز اٹھانا اور طلبا کو درپیش مشکلات سے حکمرانوں کو اگاہ کرنا ہے ایسے مرحلے پر جب ہر چارسو مایوسی بددلی عدم اطمینان کی کیفیت ہے جب پاکستان کی باقی طلبا تنظیمیں خاموش ہیں اس مرحلے پر اسلامی جمیعت طلبہ کی یہ کاوش قابل تحسین قدم ہے جمیعت نے بروقت فیصلہ کرکے طلبا کی قیادت کرنے والی ایک منظم تنظیم ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے یقینا اس روڈ کارواں کے مثبت اثرات و نتاہج مراتب ہوںگے اسلامی جمیعت طلبہ کے پیش نظر چند مطالبات حسب ذیل ہیں حکومت فرسٹ ائیر کے رزلٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور متاثر طلبہ و طالبات کا ازالہ۔کرے جدید، ترقی یافتہ یکساں نظام تعلیم راہج کیا جاے تعلیمی کرپشن کا خاتمہ کیا جاے فیسوں میں کمی کی جاے ۔تعلیم کے لیے بجٹ کا 4 فیصد۔ مختص کیا جاے طلبہ یونین بحال کی جاہیں دو سالہ ڈگری پروگرام کی بحالی کی جاے تعلیم پر عائد ظالمانہ ٹیکس کا خاتمہ۔کیاجاے نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ اور نیشنل لائسنسنگ امتحان کا خاتمہ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی بحالی۔کی جاے وزیراعظم ری ایمبرسمنٹ اور لیپ ٹاپ سکیم کی بحالی۔اور یونیورسٹیوں میں سرکاری ہاسٹلز کاقیام۔ممکن بنایا جاییونیورسٹیوں میں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جاے
این ایل ای کا خاتمہ ،اور پی ایم ڈی سی کی بحالی کے مطالبات کی منظوری کے حوالے سے ملک بھر میں روڈ کارواں جاری ہے ،طلبہ کے حقوق کے حصول کیلئے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی مہم زور شور سے جاری ہے ،17نومبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں لاکھوں طلبہ جمع ہوکر اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دینگے ۔