افلاس اور غربت سے نجات

سر حدی۔پیارے قارئین!وہ معاشرہ اور ملک کتنا مظلوم ہوتا ہے جہاں کہیں بھی افلاس اور غربت کے ہاتھوں لوگ محتاجی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں۔ہر دل میں ایسا ہوتا ہے جیسے سونی پڑی ہوئی ہے دل کی بستی۔کہاں گئی سفید پوشیدہ طبقہ کی عظمت،کہاں گئیں گھروندوں کی رونقیں،کسی نیکیا خوب کہا کہ کسی کے جذبات کو اتنی چوٹ نہ پہنچائو۔۔کہ آپ کا خیال بھی اسے آئے تو اسے تکلیف ہو۔بات قابل غور ہے کہ جو لوگ معاشرتی زندگی میں آپ پر اعتماد کی دولت خرچ کرتے ہیں۔جبکہ ان کے جذبات اور احساسات کا پاس نہیں کریں گے توجہ معاشرتی اور سماجی فاصلے بڑھتے ہوئے چلے گئے جائیں گے۔ہم سب مل کر معاشرتی اقدار اور اصولوں کی پاسداری سے نہ صرف دل جیت سکتے ہیں بلکہ دلوں پر حقیقی راج بھی ہو پاتا ہے۔مقصد صرف درد مندوں سے ،ضعیفوں سے محبت کرنا ہے۔خدا کرے ان لفظوں میں ایک ایسا درد ہو کہ دلوں پر اثر ہو۔بقول شاعر دل سے جو بات نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے۔خوبصورت معاشرے کا تصور تو پیغمبر اعظم حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اجاگر فرمایا۔اس کی روشنی میں زندگی کی نہ صرف کایا پلٹ سکتی ہے بلکہ اطمینان کی ثروت بھی نصیب ہو پاتی ہے۔علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ:-اس دور کی ظلمت میں،ہر قلب پریشاں کو۔۔وہ داغ محبت دیجو چاند کو شرما دے۔بات ہو رہی ہے کہ افلاس اور غربت کا خاتمہ کیسا ہو۔بہت سی صورتیں سامنے آتی ہیں۔اگرچہ حکومت وقت کی طرف سے پروگرام چل رہے ہیں۔تاہم ان میں مزید وسعت پیدا کی جائے۔ہر نادار اور محتاج کو پائوں پر کھڑا ہونے کی اعانت مل سکے۔صاحب حیثیت لوگ دل کھول کر غریب اور مستحقین کی مدد کریں۔کبھی کسی کی دل آزاری نہ ہو۔عاجزی زندگی بسر کرنے کی ایک صفت ہے۔یہی صفت انسان کو اوج کمال تک پہنچاتی ہے۔انسانی رویئے بہت اثر انداز ہوتے ہیں ۔معاشرتی اور سماجی زندگی کی صورت حال تبدیل کرنے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے۔کہنے کا مدعا یہ ہے کہ ایسے روپ میں زندہ رہ کر کام کیا جائے کہ دل اطمینان کی دولت سے بھر جائیں۔خوب بھلائی کرنا،کسی کو اذیت نہ دینا اس طرز زندگی سے دوسروں کے احساسات محسوس کئے جا سکتے ہیں۔افراد معاشرہ ایک دوسرے کار بازو ہوتے ہیں ۔بقول شاعر:- ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔غربت اور افلاس کا خاتمہ وقت کا اہم ایشو ہے۔اس کے خاتمہ کے لیئے سنجیدگی سے عملی اقدامات اٹھانے کیا ضرورت ہے۔مہنگائی سے عوام اس قدر پریشان کہ ہر کوئی پریشانی کے عالم میں سر گرداں۔آئے روزا مہنگائی کا تذکرہ کیا ایک عادت سی بن چکی ہے بلکہ ہرفرد جو بھی تحریر پیش کرتا ہے وہ اس کے تذکرہ کے بغیر نا مکمل تصور کرتا ہے ۔مہنگائی صرف فرد واحد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔اس سنگین مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کے لیئے منصوبہ بندی کیا ضرورت ہے۔عوام اس جمہوری تماشا سے نالاں نظر آتے ہیں۔روزگار کی فراہمی،نادار افراد کی بحالی،جیسے اقدامات تجویز کیئے جائیں۔یہ حقیقت روز روشن کیا طرح عیاں بھی ہے کہ جب ہم ایک مسئلہ پر توجہ مبذول نہ کر سکیں گے توجہ کئی مسائل پیدا ہونے کے خدشات بدستور موجود رہیں گے۔ہمارا ملک قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔کسان ریڑھ کی ہڈی کیا حیثیت رکھتے ہوئے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔دریائوں پر ڈیم بنائی کر پن بجلی پیدا کیا جا سکتی ہے۔ہنر مند افراد اپنے ہنر کے مطابق روزی تلاش کر سکتے ہیں۔سرکاری ملازمتیں بھی آمدنی کا ایک ذریعہ ہیں۔تاہم ملازمین فرض شناسی اور ذمہ دار بن کر کام کریں تو کافی حد تک مالی پریشانیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔
اسراف سے بچنا بھی ایک مثبت طرز زندگی ہے۔نمائش اور خود نمائی سے فضول کے خرچی ہوتی ہے جو کسی بھی قیمت پر پر وقار زندگی کے لیئے نیک شگون نہیں۔جسم ملک کے عوام اپنی مدد آپ سے کام کرتے ہیں۔وہ محتاجی اور غربت سے محفوظ رہتے ہیں۔اسلامی نظام حیات سے نہ صرف مسائل حل ہو پاتے ہیں بلکہ خوشحالی بھی مقدر بن سکتی ہے۔سوچا جائے توجہ خواہشات کے جزیرے بہت وسیع ہوتے ہیں ہیں۔ان کے تعاقب سے نہ صرف انسانی بھٹک کر رہ جاتا ہے بلکہ پریشانیوں کے خاموش سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔قناعت ایک ایسی خوبی ہے جس سے زندگی بدل سکتی ہے۔اخراجات میں توازن ہو تو رونق پیدا ہوتی ہے۔محنت میں عظمت ہے۔پشہ ورانہ مہارتوں سے بھی رزق کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اس ضمن میں جگر مراد آبادی کا شعر یاد آج گیا کہ:-اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل۔۔۔ہم وہ نہیں کہ جن کود زمانہ بنا گیا۔کہنے کا مدعا یہ ہے کہ انسانی زندگی پر سکون تب ہوتی ہے جب تلاش روزگار کے لیئے محنت کی جائے۔جو لوگ اپنی ہمت سے کام کرتے ہیں خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے ہے۔اولاد اللہ تعالی کیا بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔اس کیا تعلیم وہ تربیت اور روزگار سے مستقبل سنور سکتا ہے بلکہ کامیابی دینی وہ دنیوی مل سکتی ہے۔پرعزم زندگی سے تمام مسائل حل ہو پاتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭