سب غلط فہمیاں دور

عمران خان پاکستانی قوم کے لئے واقعی فرشتہ بن کے آیا ہے اور وہ بھی موت کا، اگر عمران خان حکْومت میں نہ آتے تو بہت سی غلط فہمیاں یا خوش فہمیاں ہمیشہ سوال بن کر قبر تک جانی تھیں کہ عمران خان سچ بولتا ہے کہ روزانہ اس ملک میں 12 ارب کی کرپشن ہوتی ہے اگر عمران خان آئے گا تو وہ روزانہ ملکی خزانے کو 12 ارب کے نقصان سے بچائے گا جو کرپشن کی صورت کی صورت میں ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران نے خان ساڑھے تین سال میں کتنے ارب بچائے؟ حکومت میں آنے سے پہلے بڑے بڑے دعوے کئیے جاتے تھے کہ لاہور میٹرو بس تو اتنے ارب میں بنی حلانکہ اتنی لاگت آنی چاہئے تھی پاکستانی عوام ساری زندگی اسی پاگل پن میں رہتے ہوئے گزار دیتی۔ اللّ? کا شکر ہے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ پشاور میٹرو بننے پر لاہور میٹرو بس سروس سے کئی گنا زیادہ لاگت آئی۔ عمران خان کے چاہنے والے کہا کرتے تھے کہ ہمارا لیڈر تو بہت غیرت مند ہے کبھی بھیک نہیں مانگے گا قرضہ نہیں لے گا بلکہ عمران خان خود کہتے تھے میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا اگر گیا تو خود کشی کر لوں گا۔ اسی غلط فہمی میں تحریک انصاف کے ورکرز ساری عمر دوسروں کا جینا حرام کئیے رکھتے اور کبھی تو یہ کہا جاتا کہ کوریا کا پرائم منسٹر دیکھو اتنا غیرت مند ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کشتی ڈوبنے پہ استعفٰی دے دیتا ہے مگر آپ نے دیکھا کہ ٹرین میں سلنڈر دھماکے سے ٹرین جلی، مسافر جلے، پی آئی اے کا جہاز گرا، کتنے غیرت مندوں کے استعفے آئے موجودہ حکومت کے دور میں۔ یاسمین راشد سے ایک دفعہ یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ اب یہ ممکن نہیں کے ہر کسی کو مفت علاج دیا جائے۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے قبل جب تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ میں حکومت تھی تو 350 ڈیم بنا کے وہاں کی صوبائی حکومت نے پورے ملک کو بجلی بیچنی تھی اور بیلین ٹری منصوبے کا کیا ہوا یہ بھی سارا پاکستان جانتا ہے۔ عمران خان کہتے تھے کہ ڈالر اِن کرپٹوں نے اوپر چڑھایا ہوا ہے ہم اس کو نیچے لے کے آئیں گے۔ کبھی یہ سننے کو ملتا کہ بجلی کی اصل قیمت 10روپے فی یونٹ ہے اوپر والے 6 روپے نواز شریف کی جیب میں جاتے ہیں وہ 16 روپے کا یونٹ دیتا ہے، عمران خان جب آئے گا تو بجلی کا
یونٹ 10روپے کا دے گا۔ ہائے بدنصیبی اب کوئی بتائے گا کہ بجلی کا یونٹ 22 روپے کا ہے تو 12روپے کس کی جیب میں جا رہے ہیں؟ تحریکِ انصاف کی حکومت آئے گی تو نہ صرف ماڈل ٹاؤن کے مقتولوں کو انصاف ملے گا بلکہ عافیہ صدیقی کو بھی پاکستان واپس لائیں گے پھر ہم نے ساہیوال واقعہ کا عجب انصاف بھی دیکھا، نیز میاں صاحب بْز دل ہیں کلبھوشن کا نام بھی لینے سے ڈرتے ہیں پھر عمران خان نے پائیلٹ ابھی نندن کو چوبیس گھنٹوں میں دودھ پتی پلا کے واپس کر کے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے اور اب ملک دشمن ابھی نندن کے لئے قانون سازی کر کے بہادری کی تاریخ رقم کی۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہوتا کہ غدار نواز شریف تھا یا عمران خان ہے؟ کہا جاتا تھا کہ ہم ہر شعبہ میں اْس شعبے سے متعلقہ انتہائی تجربہ کار اور کوالیفائیڈ لوگوں کو میرٹ کی بنیاد پر اس کا ہیڈ بنائیں گے تاکہ ہمارے ادارے ترقی کریں پھر ہم نے دیکھا کہ 70 سے زیادہ محکموں کے چئیرمین ایسے لگائے گئے جو نہ تو متعلقہ شعبوں سے متعلق تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی تجربہ، میرٹ تو دور کی بات ٹھہری مثلاً پی ایم ڈی سی، واپڈا ریلوے وغیرہ۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ پہلے سو دنوں میں مْلک کی سمت کا روڈ میپ دیں گے مگر حالت یہ ہے کہ ساڑھے تین سالوں سے کنفیوز پھر رہے ہیں نیز امریکہ یورپ کی طرز کی صرف 14 لوگوں کی کابینہ ہو گی، اب آپ خود ہی وزیر مْشیر گِن لیں، کبھی ایک کروڑ نوکریاں دینے اور کبھی پچاس لاکھ مکان غریبوں کے لئے بنانے کے خواب دکھائے جاتے تھے۔ اب کہاں گئے وہ سب وعدے اور دعوے لہٰذا اب سوال تو ہونگے، شاید تلخ بھی لگیں، اچھا ہوا جیسے تیسے کر کے عمران خان کو وزیر اعظم بنا دیا گیا جس سے بہت سے لوگوں کی خوش فہمیاں یا غلط فہمیاں تو دور ہو گئیں جو یہ کہتے کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ایک موقع عمران خان کو ضرور ملنا چاہئے ورنہ تو پچھلی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ہی ظالم لگتی رہتی۔
٭٭٭٭٭٭