حکومت کا سیالکوٹ واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے سیالکوٹ واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ہوا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں پاکستان کی پہلی نیشنل سکیورٹی پالیسی کا مسودہ زیر غور آیا۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے ارکان کو قومی سلامتی پالیسی ڈرافٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے، جسے نیشنل سیکورٹی ڈویژن نے تیار کیا ہے جس میں ملکی سلامتی پالیسی کی گائیڈ لائن شامل ہے، اس پالیسی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس اور پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی دہشت گردی، خارجہ امور،داخلی سلامتی، واٹر سکیورٹی، اقتصادی، فوڈ، ملٹری سیکورٹی، آبادی میں اضافہ ، کشمیر اور افغان ایشو اور خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات پر مشتمل ہوگی۔ نیشنل سیکورٹی پالیسی میں متعلقہ وزارتیں شامل ہیں جو پالیسی پر عملدرآمد کرائیں گی۔ نیشنل سکیورٹی ڈویژن کے تحت تمام متعلقہ وزارتوں کو سکیورٹی معاملات پر رہنما ہدایات دی جائیں گی۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت نے سیالکوٹ واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، سیالکوٹ واقعہ کا دن پوری قوم کیلئے شرمناک تھا، اب وقت آگیا ہے ریاست سخت ایکشن لے ، اس قسم کے واقعات ناقابل قبول ہیں، اب ہمیں دوبارہ اپنے قوانین کا جائزہ لینا ہے کہ نیشنل ایکشن پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا، ابھی تک نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، کابینہ اجلاس میں ساری چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا ، اجلاس میں بحث کے بعد واضح پالیسی بنائی جائے گی۔