سرد جنگ نہیں بڑی عالمی جنگ!

جولائی 2015 میں برطانیہ کے مشہور صحافی، براڈ کاسٹر اور لکھاری ٹم مارشل (Tim Marshall) کی ایک ایسی کتاب شائع ہوئی جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ یہ شخص سکائی نیوز سے وابستگی کے دوران تقریبا تیس بڑے ممالک میں رپورٹر کے فرائض سرانجام دیتارہا تھا۔ اس دوران اس نے بارہ جنگوں کا بھی براہِ راست مشاہدہ کیا۔ اس نے 1990 کی بلقان کی جنگ سے لے کر بوسنیا، کوسوو کے میدانِ جنگ، پھر افغانستان میں امریکی حملے، عراق امریکہ جنگ، لیبیا، مصر، شام، تیونس اور دیگر عرب ممالک میں ہونے والی مقبولِ عام شورشوں اور خوفناک سول وار تک سب کا بڑے قریب سے جائزہ لیا۔ دنیا میں موجود ان جنگی محاذوں (War Zones) میں ایک عمر گزارنے کے بعد اس نے اپنے ان تجربات کے نچوڑ کی بنیاد پر یہ کتاب تحریر کی۔ کتاب کا عنوان ہے جغرافیے کے قیدی (Prisoners of Geography)۔ اس کتاب میں پوری دنیا کو بارہ نقشوں کی مدد سے بیان کیا گیا ہے۔ وہ ان نقشوں کی مدد سے تاریخ کی بھول بھلیوں میں نکل جاتا ہے، قدیم جنگوں اور خون خرابوں سے ہوتا ہوا پھر موجودہ دور کے مشہور جنگی میدانوں کی خونریزیوں کا تذکرہ ایک تسلسل سے کرتا ہے۔ یہ کتاب ایک مسحور کن مطالعہ ہے، جسے پڑھتے ہوئے آپ دنیا کے نقشوں میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ یوں لگتا ہے، جیسے آپ کے اردگرد کی دیواریں گھومتی ہوئی سکرین کی طرح ہیں جن پر دنیا کے مختلف جنگی میدانوں کے نقشے ابھرتے اور مٹتے چلے جا رہے ہیں۔ کتاب آپ کو حیران کر دیتی ہے کہ کیا واقعی کسی خاص خطے میں رہنے والوں کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے ان پر ہمیشہ مسلسل جنگ کے خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ میرے لئے سب سے زیادہ حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس کتاب کا پہلا باب روس سے متعلق ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب اس کتاب کے ابتدائی چند فقروں کا موضوع یوکرین نظر آیا۔ یوکرین تو گذشتہ ایک صدی سے جنگی ماہرین ہی نہیں بلکہ سیاسی تجزیہ نگاروں کیلئے بھی بہت اہم چلا آ رہا ہے۔ کتاب کا آغاز یوں ہوتا ہے۔ ولادی میر پیوٹن کہتا ہے کہ وہ ایک مذہبی انسان ہے۔ وہ آرتھوڈوکس چرچ کا بہت بڑا حامی و مددگار ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اسے سونے سے پہلے اللہ سے ایک دعائیہ شکوہ کرنا چاہئے کہ، اے خدا، تم نے یوکرین میں پہاڑی سلسلے کیوں نہیں بنائے۔ اگر خدا نے ایسا کیا ہوتا اور پھر شمال کے یہ وسیع میدان ایسے نہ ہوتے تو نتیجتا روس پر دیگر اقوام بار بار حملہ آور نہ ہوتیں۔ ٹم مارشل کا یہ فقرہ یوں تو صرف یوکرین تک محدود ہے، لیکن یہ ہر اس علاقے پر صادق آتا ہے جہاں وسیع سرسبز میدان، لہلہاتے کھیت اور بہتے دریا ہوں۔ درہ خیبر سے برصغیر پاک و ہند پر حملہ آور ہونے والوں کو جب پوٹھوہار کی سطح مرتفع سے اترتے ہی پنجاب اور اس کے بعد علاقوں کے وسیع و عریض سرسبز میدان نظر آتے تو ان کے حملوں میں شدت آ جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے حملہ آور یہاں کا رخ کرتے رہے۔ یوکرین کو مرکز بنا کر کتاب کا آغاز کرنا اور پھر کتاب کا بیسٹ سیلر ہو جانا میرے لئے کسی طور بھی اچھنبے کا باعث نہیں تھا۔ یہ سب ایک تسلسل ہے، ایسی کتابیں لکھی نہیں لکھوائی جاتی ہیں۔ اس کتاب کے ٹھیک دو سال بعد 2017 میں ایک اور بیسٹ سیلر مارکیٹ میں آ گئی۔ اسے بھی دو برطانوی مصنفین پال کورنش (Paul Cornish) اور کنگسلے ڈونلڈسن (Kingsley Donaldson) نے تحریر کیا تھا۔ یہ دونوں بنیادی طور پر برطانوی فوج سے تعلق رکھتے تھے، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد اب یہ دفاعی ماہرین کی حیثیت سے مختلف یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے ہیں، یونیورسٹیوں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ کی حکومتیں بھی ان سے اکثر اوقات مشورے لیتی رہتی ہیں۔ کتاب کا ٹائٹل ایک دہلا دینے والی پیش گوئی ہے، 2020 جنگ کی دنیا (2020, Warld of War)۔ کتاب کے ٹائٹل پر جغرافیے کے قیدی والے ٹم مارشل کا یہ فقرہ درج ہے۔ "A cogent and timely reminder that history never ends and is about to be made.” (ایک مضبوط اور بروقت یاددہانی یہ ہے کہ تاریخ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اب تو بننے جا رہی ہے)۔ یہ فقرہ دراصل ایک طنز ہے اس جاپانی نسل سے تعلق رکھنے والے امریکی سیاسی سائنس دان یوشیرو فرانسس فوکی یامہ (Yoshihiro Francis Fukuyama) کی کتاب تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی (End of History and Last Man) کے فلسفے پر ۔ فوکی یامہ نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 1992 میں یہ کتاب تحریر کی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ وہ کشمکش جو 1945 میں لبرل جمہوریت اور کیمونزم کے درمیان سرد جنگ کی صورت شروع ہوئی تھی، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ختم ہو چکی ہے اور اب دنیا مکمل طور پر یک رنگی ہو گئی ہے۔ آج کے بعد پوری دنیا ایک ہی سپر پاور اور ایک ہی نظام کے تحت زندگی گزارے گی، جس کا مطلب یہ ہے اب تاریخ ختم ہو گئی ہے اور راوی چین لکھتا ہے۔ لیکن شاید موصوف کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ سازشی گروہ جس نے گذشتہ ایک صدی پہلے اپنی خفیہ کارروائیوں سے دنیا کا نقشہ بدلنے کا آغاز کیا تھا وہ کب چین سے بیٹھ سکتے تھے۔ وہ یہودی، جو دو ہزار سال سے یورپ میں ذلیل و رسوا ہو رہے تھے جب ایک صہیونی تنظیم کی صورت ایک قالب میں ڈھلے تو پھر انہوں نے اسی یورپ کو اپنی سازشوں سے جنگوں کے ذریعے بارود اور خون میں نہلا دیا۔ 1896 میں لکھے جانے والے پروٹوکولز صرف ایک تحریر ثابت نہیں ہوئے، بلکہ ان چند درجن صفحات نے دنیا کی جغرافیائی تقسیم کو بدترین طریقے سے خونریز بنا دیا۔ عالمی جنگوں کے انتشار کی کوکھ سے ہی اسرائیل کی ریاست وجود میں آئی اور وہ یورپ جو کبھی ان یہودیوں کو اسقدر قابلِ نفرت سمجھتا تھا کہ انہیں اپنی آبادیوں میں بھی رہنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، آج وہاں یہودیوں کے خلاف گفتگو کرنا "Anti semitism” ہے جو ایک قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔ یہودیوں نے اپنی مظلومیت کی جو داستانیں ہولو کوسٹ کی صورت بیان کر دی تھیں، امریکہ اور یورپ میں انہیں چیلنج کرنے پر کئی سال قید کی سزا مقرر ہے۔ قدیم یورپ سے لے کر جدید عالمی جنگوں تک سب کا مرکز و محور شروع دن سے ہی روس اور اس کی طاقتور عسکری قوت رہی ہے۔ یہ قوت زارِ روس کے زمانے سے طاقتور چلی آ رہی ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ بھی ان کا تنازعہ پرانا ہے۔ قسطنطنیہ جو کبھی آرتھو ڈوکس چرچ کا ہیڈ کوارٹر تھا، اسے سلطان محمد فاتح نے جنوری 1454 میں فتح کیا تو یہ چرچ بکھر کر رہ گیا، مگر اسے کسی حد تک خلافتِ عثمانیہ میں پھلنے پھولنے کی مکمل آزادی رہی۔ لیکن یہ پادری آہستہ آہستہ روس اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اپنا ہیڈ کوارٹر منتقل کرتے گئے اور آج ان کا سب سے بڑا چرچ روس اور سوویت یونین کے سابقہ اتحادی یوگو سلاویہ اور موجودہ سربیا کے شہر بلغراد میں ہے۔ روس کی عیسائیت آرتھو ڈوکس چرچ سے تعلق رکھتی ہے اور پچہتر سالہ کیمونسٹ راج کے بعد اس کا دوبارہ احیا ہوا ہے۔ جنگِ عظیم اول دراصل صہیونی بینکاروں نے فرانس، برطانیہ اور روس میں سیاسی قوت رکھنے والے یہودیوں کی مدد سے ایک سازش سے شروع کروائی تھی۔ پہلے فرانس، برطانیہ اور روس کا رومانس شروع ہوا، پھر انہیں دنیا پر چڑھ دوڑنے کا مشورہ دیا گیا۔ جنگ کا اصل مقصد خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ، مسلم امہ کو حصوں میں تقسیم کرنا اور یہودیوں کیلئے یروشلم واپسی کا بندوبست کرنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے زارِ روس کو یہ لالچ دیا گیا کہ فتح کے بعد قسطنطنیہ اسے دے دیا جائے گا، جو کبھی آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز تھا، لیکن جیسے ہی روس فتح کے نزدیک ہوا اور یوکرین پر اس کی فوجیں جا پہنچیں تو ایک دم پانسہ پلٹ دیا گیا۔ (جاری)
٭٭٭٭٭٭