اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی

اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود 8.75 فی صد سے بڑھا کر 9.75 فی صد کردی گئی ہے۔ جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے۔ مہنگائی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کنٹرول کرنے اور معیشت کی شرح نمو میں استحکام لانے کے لیے شرح سود جسے پالیسی ریٹ بھی کہتے ہیں ایک فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو 4 سے 5 فی صد رہے گی۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 4 فی صد کے برابر رہے گا اور فی الحال مہنگائی میں کمی آنے کا کوئی امکان نہیں اور یہ 11 فی صد تک جاسکتی ہے۔ جدید نظام معیشت میں کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو ابھارنے، معیشت میں استحکام لانے، مہنگائی اور بیروزگاری کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے اختیار میں ایسے اقدامات ہوتے ہیں جن سے کچھ بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ان اقدامات میں سے ایک کو مالیاتی پالیسی (fiscal policy) اور دوسرے کو زری پالیسی (Monetary Policy) کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں مانیٹری پالیسی ملک کے مرکزی بینک (Central Bank) کے ہاتھ میں ہوتی ہے جسے وہ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کو دیکھ کر وضع کرتے ہیں۔
مانیٹری پالیسی کا تعلق شرح سود اور زر کے پھیلائو (Money Supply) سے ہے۔ عموما جب ملک میں کساد بازاری ہو، کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہو تو ایسے میں شرح سود میں کمی اور زر کے پھیلائو میں اضافہ کیا جاتا ہے اور تمام ماہرین معیشت اس پر متفق ہیں کہ ان دونوں اقدامات سے وقتی طور پر معاشی حالات میں بہتری آجاتی ہے۔ اس وقت جو مرکزی بینک نے شرح سود میں ایک فی صد اضافہ کیا ہے اور اس کی شرح 9.75 فی صد ہوگئی ہے، یہ بہت بلند شرح ہے جب کہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں تھوڑی بہت بہتری آئی ہے۔ ایسے میں شرح سود میں اضافے سے یہ خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ معیشت کا پہیہ جو چلنا شروع ہوا ہے کہیں دوبارہ رک نہ جائے اور اس اندیشہ کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے سال جب اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھاتے بڑھاتے 13.25 فی صد کردی تھی جو انتہائی بلند شرح تھی اس کی وجہ سے معاشی اور کاروباری تقریبا جمود کا شکار ہوگئی تھیں اور لاکھوں افراد بے روزگار ہورہے تھے لیکن اسٹیٹ بینک نے یہ دلیل دی ہے کہ اس اضافے سے مہنگائی اور کرنٹ خسارہ کنٹرول میں آئے گا اور معاشی اور کاروباری حالات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور ساتھ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی نمو کی رفتار 4 سے 5 فی صد رہے گی۔
اصل میں ان سارے معاملات میں جو چیز عوام کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ مہنگائی ہے جو نومبر کے مہینے میں 11 فی صد رہی۔ جب لوگ کھانے پینے کی اشیائے ضرورت خریدنے کے لیے بازار میں جاتے ہیں اور قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتی ہیں تو محدود اور مستقل آمدنی والے لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا خریدیں اور کیا نہ خریدیں۔ حال ہی میں حکومت کے پاس ایک موقع آیا تھا کہ وہ لوگوں کی اس پریشانی میں کمی کرسکتی تھی اور وہ تھا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی جو 10 سے 12 روپے تک کی جاسکتی تھی۔ لیکن حکومت نے سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی بڑھا کر قیمتوں میں صرف 5 روپے کمی کی جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف شہروں میں رہنے والے گیس کی قلت سے پریشان ہیں اور کسان کھاد نہ ملنے سے پریشان ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نے کس طرح لوگوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔
٭٭٭٭٭٭