اللہ محمد چار یار

فضل شاہ فیض عالم قاسم لطف خدا
معطئی جامی محبت ہادی راہِ ہْدا
از لسان الغیب ایں گردد نوید
از درتو کس ناگشتہ ناامید
برآستان تو ہرکس رسید مطلب یافت
رومدار کہ من ناامید برگردم
اللہ تعالیٰ نے جب یہ کائنات تخلیق کی تو فرمایا کہ میں نے جنوں اورانسانوں کو محض اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے، یہی فلسفہ تمام انبیائ کرام لیکر مبعوث کئے گئے اوراسی پیغام کو آگے ان کے اصحاب اور ماننے والوں نے بڑھایا۔حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیائ کی نبوتیں اوررسالتیں اختتام پذیر ہوگئیں تو پھر نبی آخرالزمان? تشریف لائے۔ آپ کے پیغام کو قیامت تک کیلئے آگے پہنچانے کیلئے سب سے پہلے آپ کے صحابہ کرام? اور آپ کی اہلبیت عظام? نے بھرپور خدمات سرانجام دیں اس کے بعد ان کے تربیت یافتگان تابعین اور پھر تبع تابعین نے اپنی زندگیوں میں اسلام کو داخل کیا اورروشنی کے مینارہ نور ثابت ہوئے، اس کے بعد اس سلسلے کو آگے اولیائ عظام نے بڑھایا، باری تعالیٰ نے قرآن پاک میں پہلے ہی ان نفوس قدسیہ کیلئے ارشاد فرمادیا،الاان اولیائ اللہ لاخوف علیہم ولا ھم یحزنون۔
”خبرداربے شک اللہ کے دوستوں(اولیائ) کو نہ کوئی خوف ہے اورنہ کوئی غم ”اس ارشادباری تعالیٰ سے ان نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آج ہم جس مقدس ہستی کے بارے میں چند کلمات خیرلکھ رہے ہیں ان کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے، ان کا نام نامی حضرت خواجہ فضل الدین چشتی، صابری، کلیامی? ہے۔آپ صاحب کرامت ولی ہیں آپ17ویں صدی ہجری کے بلندپایہ ولی ہیں، آپ کا سلسلہ بیعت حضرت بابافریدگنج شکر? کی نسبت سے چشتی کہلاتا ہے اورآپ حضرت بابافرید کے بھانجے حضرت علا?الدین علی احمدصابر کلیرشریف? کے روحانی فیض یافتہ ہونے کی بنائ پرصابری کہلاتے ہیں، آپ سے ہزاروں لاکھوں افراد اوراولیائ نے فیض حاصل کیا جن میںخواجہ خواجگان پیر قاسم صادق نقشبندی موہروی? رومی کشمیر میاں محمد بخش کھڑی شریف حافظ عمر کریم عیدگاہ شریف راولپنڈی مجدددین وملت حضرت پیرسیدمہرعلی شاہ? گولڈہ شریف بھی شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات اقدس کوپہلے ہی اس منصب کیلئے چن رکھا تھا اس لئے آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے مرشد حضرت حافظ خواجہ محمدشریف? دہلی سے خطہ پوٹھوہار(کلیام شریف) تشریف لائے تھے، آپ آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کے نواسے تھے اورفوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
خواجہ حافظ محمد شریف کے مرشدپاک خواجہ سیدمظہرعلی چشتی? بھی بلند پایہ ولی اللہ تھے اور جلال آباد دہلی کے نزدیک میں مقیم تھے، حصول فیض کیلئے آپ نے دہلی سے جلال آباد تک کی سفرکی صعوبتیں برداشت کیں اور جب مرشد نے آپ کو ظاہری وباطنی طورپر درجہ ولایت پر فائز کردیا تو حکم دیا کہ آپ خطہ پوٹھوہارتشریف لے چلیں وہاں ایک ایساشہباز(صفت انسان)دنیا میں تشریف لانے والا ہے جو مخلوق خدا کا بادشاہ ہوگا، آپ وہاں جاکر اسے سنبھالیں اور تمام عمر اس کی نگہبانی کریں وہ اللہ پاک کا حقیقی پاکبازعاشق صادق ہوگا اوراس نے نبی پاک? کی امت کی شفاعت کرنی ہے، میری ہرروزاللہ تعالیٰ کے حضوریہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے آپ کواپنے دوست فضل سے ملائے، وہ دنیا پر(اپنے نفس امارہ کے ساتھ) جو جہاد کرے گا اس دنیا میں نہ پہلے کبھی کسی نے ایسا جہاد کیا ہوگا اور نہ کوئی کرے گا، وہ اپنے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر چیلوں کے آگے ڈالے گا اور اپنے(ازلی وابدی حقیقی) مالک کی خاطر جان قربان کردے گا وہ دیدارالٰہی کی خاطر نفس امارہ کو نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ بنانے کی غرض سے ہروقت ایسے نئے نئے جہاد کرے گا جو بیان سے باہر ہونگے”۔
سید خواجہ مظہرعلی چشتی? کی یہ پیشنگوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی اور جب حضرت خواجہ فضل الدین کلیامی? کو خرقہ خلافت عطا ہوا تو پھر آپ نے ساری زندگی مخلوق کی بھلائی اوریادالٰہی میں بسر کردی، آپ کی زندگی کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جو دیدارالٰہی اورعشق مصطفےٰ سے خالی ہو، آپ کی حیات طیبہ اتنی بھرپوراورجامع ہے کہ اس پر لکھنے کیلئے کئی سال اورکئی دفاتر درکار ہیں لیکن ہم صرف یہ لکھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ نبی کریم? کی امت میں آپ ایک ایسے ولی ہیں جو اپنا تن، من، دھن قربان کرنے والے ہیں یہ صرف کہاوت والی بات نہیں ہے بلکہ آپ نے عملی طورپر اپنا جسم مبارک چھری سے یادالٰہی اوردیدارالٰہی کے شوق میں کاٹا، اپنے من کو انسانی ونفسانی خواہشات کی تکمیل سے روکا اور اپنا دھن(دولت)مخلوق کیلئے وقف کیا اور صدیاں گزرجانے کے باوجود آپ کا لنگرخانہ آباد ہے اور جس طرح آپ کی حیات ظاہری میں اللہ کی مخلوق کی آپ خدمت کرتے تھے اب بھی اس طرح آپ کے آستانیہ پر لوگ فیض یاب ہورہے ہیں۔
حضرت خواجہ فضل الدین کلیامی? نے اتنے سخت مجاہد سے اورریاضتیں کیں جن کو پڑھ کر اورسن کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس مقصد کیلئے آپ نے کئی علاقوں کے سفر کئے اورنفس کشی کی آپ کیکرکے نوکدارکانٹوں کے اوپر لیٹتے اورجب جسم سے سارا خون نکل جاتا تو جسم سے گوشت کاٹ کر اسے سیخ پر چڑھادیتے تھے، جس طرح کباب بنائے جاتے ہیں آپ کے روضہ مبارک کے مغرب میں آج بھی وہ پتھر کی سل محفوظ ہے جو گرم ہوکر جب آگ کی طرح سرخ انگارہوجاتی تھی تو آپ اس پر لیٹ کر نفس کشی فرماتے تھے،جسم مبارک سے دھواں نکلتا تھا تو یہ منظردیکھنے والے مریدین آہ وبکا کرتے اور چیخیں مارمارکر روتے تھے، ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے سے ماحول میں ایک عجیب ماحول بن جاتا تھا، پھر جسم مبارک سے چھری کے ذریعے گوشت کاٹ کاٹ کر پھینکتے تھے اور چیلوں کو کھلاتے تھے اس طرح اپنے نفس پر غیض وغضب فرماتے تھے، یہ ایسا اعزاز ہے جو صرف سلسلہ صابریہ کے اس صابری پیر کو حاصل ہوا ہے، آپ نے ساری زندگی اپنی کمر کو بستر کے ساتھ نہیں لگایا درگاہ شریف کے جنوب کی طرف بنے ہوئے تخت میں بیٹھ کرزندگی گزاردی، اس تخت کے سامنے ہی آپ کے مرشدپاک خواجہ حافظ محمدشریف? کا روضہ اقدس ہے آپ ہروقت اپنے مرشدپاک کی طرف تکتے رہتے تھے کبھی اس کی طرف پا?ں نہیں پھیلائے آپ کی حیات طیبہ کے دوران اتنی کرامات کا ظہور ہوا جن کا بیان مشکل ہے، تاہم آپ کی برکت اور دعا سے کئی موذی امراض ہیضہ، کوہڑ، چیچک،ٹی بی، کینسر اور رسولیاں’ گلہڑے سانپ کا کاٹا، طاعون، اندھاپن اور دیگر امراض کا آج بھی خاتمہ ہوتا ہے اور ہر اتوار کو باقاعدہ دم کیا جاتا ہے کتابوں میں لکھا ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد اس خطہ پوٹھوہار میں قحط جیسا عذاب باری تعالیٰ نے ختم کیا۔
آپ ہمیشہ ڈولی میں سفر کرتے تھے، حضرت بابا فریدالدین گنج شکر? کے عرس مبارک پر آپ باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے، آپ فرماتے تھے جو میرا ہوگا وہ بابا فرید کے پاس پاکپتن ضرور جائے گا یہی وجہ ہے کہ آپ کے ماننے والے آج بھی پاکپتن جاکر اپنی دنیاوی واخروی برکتیں سمیٹتے ہیں۔
ایک بارصابری پیرفضل شاہ? پاکپتن تشریف لے گئے تو اس موقع پر حضرت خواجہ سلیمان تونسوی?(پیرپٹھان) سے بھی آپ کی ملاقات ہوئی۔آپ نے خواجہ فضل الدین کلیامی? کے حق میں دعائے خیرفرمائی تھی، قبلہ کلیامی? کو حضرت پیرمہرعلی شاہ? سے خصوصی محبت تھی اورتاجدارگولڈہ بھی اپنی تمام عقیدتیں قبلہ باواجی پر نچھاور کرتے تھے، حضورباواجی سرکار? نے وصیت فرمائی تھی کہ میرا جنازہ مہرعلی شاہ پڑھائیں گے، اس بارے میں کتب میں اتنی تفاصیل ہیں کہ جنہیں پڑھ کر آپ کے مقام ومرتبہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
آپ نے وصال سے ایک ماہ قبل مریدین کو حکم دیا کہ میرے لئے صندوق بنوایا جائے، اس مقصد کیلئے راولپنڈی سے قیمتی دیار کی لکڑی منگوائی گئی جب صندوق بنانے کی خبر مریدین تک پہنچی تو کلیام شریف میں ماحول سوگوار ہوگیا،ہزاروں لوگ روزانہ حاضرہونے لگے، عجیب ساسماں تھا محبت کرنے والے رونے لگے، آپ ان کو تسلیاں دیتے اور فرماتے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے، انبیائ بھی آئے اور چلے گئے اس لئے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو، میں آپ سے رخصت ہونے والا ہوں الوداع کا وقت قریب آچکا ہے بابا جی سرکار? نے مالک کائنات کے حضور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور التجا کی کہ اے میرے مولا میں نے ساری زندگی تجھ سے اپنے لئے کچھ طلب نہیں کیا تیری ذات تمام کمالات کی حامل ہے اے اللہ جو اس در(میرے) دروازے پر آئے وہ خالی واپس نہ لوٹے(اس کی ہرجائزمرادی پوری ہو) مخلوق کیلئے میرا یہ سوال قبول فرما کہ جو بھی میرے ملنے والا ہے اورمیرے لنگر کی دال کھائے وہ دنیا میں بھوک نہ دیکھے اور مرتے وقت اسے ایمان نصیب ہو اس دعا کے بعد باباجی سرکار? نے اپنے دست مبارک نورانی چہرے پر پھیردیئے اوردارفنا سے داربقائ کی طرف چلے گئے، ان للہ وانا الیہ راجعون، آپ چشتی صابری ہونے کی بنائ پر قوالی کو نہایت ہی مرغوب سمجھتے تھے اور آپ کی درگاہ میں دنیا بھر سے قوال کلیام شریف آتے ہیں اور اپنا فن پیش کرکے دنیاواخروی نعمتیں سمیٹتے ہیں آپ کا فرمان تھا کہ میرے بعد میرے قوالوں کا خیال رکھنا، اس طرح آپ نے لنگر شریف کی بھی تاکید فرمائی جس پر سائیں اسرارالحق مرحوم و مغفور ہمیشہ کاربند رہے اور اب سجادہ نشین سائیں شعبان فرید بھی عمل پیرا ہیں اور یہ ڈیوٹی بخوبی سرانجام دے رہے ہیں، آپ کا 135 واں سالانہ عرس مبارک31دسمبر2021سے 9جنوری2022ئ تک کلیام شریف(راولپنڈی) میں منایا جارہا ہے جس میں اندرون وبیرون ملک سے لاکھوں فرزندان توحید شرکت کریں گے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کے طفیل ہمیں بھی دنیا و آخرت میں سعادتیں نصیب فرمائے (آمین)
٭٭٭٭٭٭٭