ترقی کا سراب

بلاشک پاکستان نے کئی حوالوں سے ترقی بھی کی ہے۔ البتہ کسی بھی ملک میں سڑکوں پر دوڑتی پھرتی گاڑیاں موٹروے اور شاہراہیں اور بلند و بالا عمارتیں قومی ترقی کا معیار نہیں ہوا کرتیں۔ یہ چیزیں اشرافیہ کی ترقی اور خوشحالی کی علامت تو ہوسکتی ہیں عوام کی ترقی کے ثبوت نہیں ہوتیں۔دنیا کے تمام ممالک میں ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کی برآمدات کتنی ہیں اور اس کی درآمدات کتنی ہیں اور تجارتی خسارہ کس حد تک ہے۔ ملک کی صنعتی اور زرعی پیداوار بھی ترقی کی علامت قرار دی جاتی ہے۔
یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کوئی ملک ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ سے کتنا ریونیو جمع کرتا ہے اور اس کے کل اخراجات کتنے ہیں۔ بجٹ کا خسارہ کتنے فیصد ہے اور اس ملک کی سیونگ کتنی ہے۔تعلیم کی شرح کتنی ہے، بے روزگار نوجوانوں کی تعداد کیا ہے؟ کتنے لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں؟ ملک کی پولیس، بیوروکریسی اور عدالتی نظام کا معیار کیا ہے؟
وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا
امن و امان کی صورتحال کیسی ہے اور عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ کس طرح کیا جا رہا ہے؟ 2018 سے اب تک مختلف مالیاتی عالمی اداروں اور ملکوں سے 38 بلین ڈالر کا قرضہ لیا گیا ہے۔ان قرضوں کے لیے ملکی وقار اور خود مختاری کو داو پر لگانا پڑا اور ملکی اثاثے گروی رکھنے پڑے۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران 8 بلین ڈالر کے موبائل فون کاریں اور اضافی پٹرول درآمد کیا گیا۔ گویا جو بیرونی قرضہ زیادہ حاصل کیا گیا اس میں سے پچیس فیصد ان اشیا کی درآمدات پر خرچ کردیا گیا۔ پاکستان کی ایلیٹ کلاس کا شوق صرف کاروں اور موبائل فونز تک محدود نہیں۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں صبح کے وقت دھند کا بسیرا، موٹروے بند
2019-21 میں فارن فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کھو لے گئے ہیں جو مختلف نوعیت کی اشیا درآمد کرتے ہیں اور ڈالروں میں ان کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ درآمد کی ہوئی بیرونی ملکوں کی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے کئی بڑے پلازے تعمیر کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں مہنگے سگریٹ، سگار، جوس کے ڈبے اور چاکلیٹ درآمد کیے جا رہے ہیں۔ عورتوں کے لیے میک اپ کا مہنگا سامان بھی درآمد کیا جا رہا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی حکومت کے محکمہ شماریات نے درآمدات کے سلسلے میں ہوش ربا تفصیلات جاری کی ہیں۔
ان تفصیلات کے مطابق ، 2019 سے اب تک 13 بلین ڈالر کی غیر ضروری اشیا درآمد کی گئیں۔
خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، اسلام آباد میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.3ریکارڈ
پاکستان ایک غریب مقروض ملک ہے، ایسے ملک میں عیش و عشرت کے لیے اشیا کی درآمدات پر اس قدر کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا انتہائی سنگدلانہ اقدام ہے۔جب بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اشرافیہ کے بینکوں میں پڑے ڈالروں کی قیمت بڑھ جاتی ہے جبکہ اس کا بوجھ پاکستان کے عوام کو مہنگی اشیا خرید کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے عوام 2004 سے 2007 تک مصنوعی ترقی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جب شوکت عزیز پاکستان کے وزیراعظم اور جنرل پرویز مشرف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ ان کے دور میں بھی بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں عارضی سرمایہ کاری کرنے اور لوٹ مار کر کے ڈالر باہر لے جانے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ مستقل اور مسلسل ترقی کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی۔
بھارتی یاتریوں کے گروپ کی مذہبی رسومات کی ادایگی کیلئے ٹیری کرک آمد
جب جنرل پرویز مشرف کی حکومت ختم ہوگئی تو مصنوعی معیشت ریت کی دیوار کی کی طرح بیٹھ گئی۔ ترقی محض ایک سراب ثابت ہوئی۔
2005 تک 13 لاکھ کاریں درآمد کی گئیں جن کی تعداد آج 77 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کاروں کو رواں دواں رکھنے کے لیے شاہراہیں، اندر گراونڈ برج اور فلائی اوورز تعمیر کیے جاتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کی طرح ماس ٹرانسپورٹ پر توجہ نہیں دی گئی۔
پاکستان معاشی حوالے سے دیوالیہ جیسی صورتحال کا شکار رہتا ہے لیکن اس کے باوجود غیر ضروری اشیا کی درآمدات پر پابندی عائد نہیں کی جاتی۔ پاکستان کی پالیسیوں کا بوجھ چونکہ اشرافیہ اور پالیسی بنانے والوں پر نہیں پڑتا اس لیے ان کو نہ ہی ریاست نہ ہی عوام کی ترجیحات کا اندازہ ہو سکتا۔ پاکستان کی نازک اور حساس معاشی صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ غیر ضروری اشیا کی درآمدات بند کی جائیں۔
انڈونیشیا میں امام مسجد قتل
پالیسی سازوں کی عوام دشمن ذہنیت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری ملازمین سے فری بجلی، فری گیس، فری پٹرول اور فری ٹرانسپورٹ جیسی سہولت واپس لی جائیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ایک تہائی نوجوانوں کی عمریں 15 سال سے 29 سال تک ہیں۔
یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، سو میں سے 39 نو جوان جاب کر رہے ہیں جبکہ سو میں سے 57 کے پاس کوئی جاب نہیں اور وہ بے روزگار ہیں۔ پاکستان کی اشرافیہ جس قدر جلدی ترقی کے سراب سے باہر نکل آئے گی اسی قدر خود ان کی آنے والی نسلوں اور پاکستان کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان میں صرف اشرافیہ ہی ترقی کرتی رہی ہے اور عوام غریب ہوتے رہے ہیں۔ خدانخواستہ پاکستان کے نوجوان غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور محرومی کی وجہ سے انتہا پسندانہ اقدامات کرنے پر مجبور بھی ہو سکتے ہیں جس کا سب سے بڑا خمیازہ اشرافیہ کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ پاکستان کی مقتدر اشرافیہ اور پالیسی بنانے والے ادارے مساوی اور شراکتی ترقی کی طرف آ جائیں۔ ایسے اخراجات پر پابندی عائد کردی جائے جو عیش و عشرت اور وی آئی پی کلچر میں آتے ہیں۔ درآمدات کوکم سے کم کیا جائے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے وگرنہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ پاکستان کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کا واحد آپشن یہ ہے کہ پاکستان کا سنگدلانہ، غیرمنصفانہ، استحصالی سرمایہ درانہ نظام تبدیل کر دیا جائے اور انگریزوں کے نظام کی بجائے سماجی انصاف اور مساوی مواقع کے سنہری اصولوں پر نیا پاکستانی نظام تشکیل دیا جائے جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا خواب تھا۔
زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے کاغذوں پر قومی سلامتی کی پالیسی بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ریاست کا آئین ہر شہری کو اکنامک سیکورٹی کی ضمانت دیتا ہے مگر آئین پر عمل ہی نہیں کیا جاتا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا