عوامی مسائل اور اتحاد ویکجہتی کی ضرورت

پیارے قارئین کرام!ایک اسلامی ملک کے عوام کی زندگی داستان حسرت بن چکی ہے۔اس بے بسی اور بے کسی کے قصے نہ صرف سوشل میڈیا پر جاری ہیں بلکہ پرنٹ میڈیا پر بھی تذکرے غالب ہیں۔عوام کی زندگی گویا مہنگائی ،عسرت ،افلاس،غربت کے ہاتھوں پریشان کن حالات سے دوچار ہوتی جا رہی ہے۔عوام اس قدر بیزار کہ اس قدر کسی نیشاید سوچا بھی نہ ہو کہ اتنی دوریاں پیدا ہو جائیں گی اور فاصلے اتنے بڑھ جائیں گے۔یہ بات توقابل ذکر ہے کہ جب خواہشات پوری نہ ہوں تو انسانی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔وہی لوگ جن کی کامیابی کے لیئے عوام اپناسب کچھ واردیتے ہیں۔جب ان پر غربت،افلاس،تنگدستی اور عسرت کاعذاب مسلط کر دیتے ہیں۔تو نفرت کی خلیج بہت گہری ہوتی جاتی ہے۔اس کے منفی رحجانات کی روک تھام کے لیئے ملکی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کومثالی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ایک ترقی یافتہ ملک کاتصور اجاگر کرنے میں سب کے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔منی بجٹ توکئی محاذ کھلنے کانقطہ آغاز بن کر رہ گیاہے۔ہرپل اور ہرگھڑی نئی بحث شروع ہو چکی۔میڈیا پر گویا ایک طوفان برپا ہے۔ایک بات توواضح ہے کہ عوام کی اکثریت مہنگائی کے ہاتھوں مجبور زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔سردی کے موسم میں معصوم بچوں کے بدن پر معقول لباس نہ ہونے کی وجہ سے تھرتھرکانپتے ہیں۔تعلیم کی دولت سے سرفراز نہیں ہو پاتے۔بیماریوں سے معقول علاج نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانوں کاضیاع ایک سوال ہے جس کاجواب حکومت اور اپوزیشن نے دینا ہے۔اس ضمن میں اتنی سی بات کہی جا سکتی ہے کہ غیر ملکی قرضوں پر انحصاری کابوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب آئی ایم ایف کے ہاتھوں مزید سخت اقدامات کرنا پڑنیسے آزمائشوں کاطوفان سابرپا ہے۔ملکی حالات کی نازک معاشی صورت حال اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر یہی حال رہا تو عوام اس سے بھی بدترین حالات کاسامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ اولاد والدین کے لیئے بہت اہم ہوتی ہے۔لیکن غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کود بھی موت کی آغوش میں سلانے پر مجبور ہو پاتے ہیں۔ایوانوں میں عوام کے مسائل بیان ہوں اور ان کے حل کے لیئے جامع اقدامات تجویز کیئے جائیں۔اشیائے ضرورت کی قیمتوں کا تعین ازسر نو کیا جائے۔ذاتی تنقید کی بجائے عوام کی آسانیوں اور مسائل کاتذکرہ کیا جائے تواچھی بات ہوتی ہے۔انسانی زندگی سے پیاراور آسانیاں پیدا کرنا ہی خدمت خلق ہوتی ہے۔قومی اور ملی تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا ہونے کی وجہ سے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔عصر حاضر کے تقاضوں اور مسائل کے حوالے سے یہ کہنا ضروری بھی ہے کہ وہ لوگ جو غربت اور عسرت کے عذاب سے دوچار زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ان کی مدد کی جائے۔ان کے لیئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ان کی خوشیوں میں اضافہ کرنے کا سوچا جائے۔تعلیمی اخراجات کم کرنے کے لئے غیر سرکاری سکولوں،کالجز اور یونیورسٹی سطح پر بھی اقدامات کیئے جائیں۔ایک خوشحال اور دلکش پاکستان سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔یہ تبھی ہو پائے گا جب سوچ بدلے گی۔نظام الاوقات بہتر ہو گا۔مسائل کامناسب حل سامنے آئے گا۔یقین محکم،عمل پیہم ،محبت فاتح عالم جیسے ماحول کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭