ملک میں آئی ٹی سلوشنز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ

کراچی: پاکستان میں آئی ٹی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے کی رفتار تیز ہو گئی۔

پاکستان میں ڈیجٹیائزیشن کا عمل تیز ہونے اور کورونا کی عالمی وبا کے بعد بدلتے ہوئے کاروباری رجحانات کی وجہ سے آئی ٹی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے کی رفتار بھی تیز ہو گئی ہے اور نجی شعبے کے ساتھ پبلک سیکٹر ادارے بھی آئی ٹی انفرااسٹرکچر کو موثر اور مضبوط بنانے میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

جعفر بزنس سسٹم کے ڈویژن جعفر انفرااسٹرکچر سلوشنز کے سربراہ سید عادل ودود نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ پاکستان میں آئی ٹی سلوشنز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں بھی آئی ٹی سلوشنز کے ذریعے اپنی کارکردگی اور منافع کو بہتر بنانے میں سرگرم ہیں۔

سید عادل ودود نے بتایا کہ پاکستان میں مالیاتی شعبہ اور پبلک سیکٹر اداروں میں آئی ٹی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کا رجحان دیگر شعبوں سے زیادہ مضبوط ہے، ٹٰیلی کام کے شعبہ کافی پہلے سے ٹیکنالوجی کو بہتر بناتا آرہا ہے جبکہ ہیلتھ کیئر، ایجوکیشن، ریٹیل سیکٹر میں بھی آئی ٹی سلوشنز اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبہ کے علاوہ بھی ایک درجن سے زائد بڑی صنعتیں بھی آئی ٹی سلوشنز اور انفرااسٹرکچر کو مضبوط بناکر موجودہ اور آنے والے کاروباری چیلنجز کے لیے اپنی گنجائش اور صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہیں۔

پاکستان میں فرنٹ اینڈ ڈیوائسز کی طلب میں نمایاں اضافہ اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ فرنٹ اینڈ ڈیوائسز کی مارکیٹ میں دو سال کے دوران 25 فیصد کی گروتھ آئی ہے جو روایتی طور پر 10سے 12فیصد تک محدود تھی۔ فرنٹ اینڈ ڈیوائسز کے ساتھ ڈیٹا اسٹوریج، کنیکٹیویٹی، آپٹیمائزیشن اور ڈیجیٹل سیکیوریٹی سلوشنز کی طلب میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔