نئی دہلی میں7 کشمیری طلبا کے خلاف بھارت سے بغاوت اورغداری کا مقدمہ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پٹیالہ ہاس کورٹ نے طلبا کو 15 مارچ کو طلب کر لیا

نئی دہلی : جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا کمار اور 7 کشمیری طلبا کے خلاف بھارت سے  بغاوت  اورغداری  مقدمے میں چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے ۔ نئی دہلی کی عدالت نے کنہیا کمار اور 7 کشمیری طلبا  کو مقدمے کی سماعت کے لیے 15 مارچ کو طلب کر لیا ہے ۔کے پی آئی  کے مطابق جواہرلال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق  صدر کنہیا کمار اور 7 کشمیری طلبا کے خلاف  2016  سے بغاوت کا مقدمہ چل رہا ہے ۔انڈین ایکسپریس کے مطابق چارج شیٹ میں ، پولیس نے دعوی کیا ہے کہ کنیا کمار نے 9 فروری ، 2016 کو جے این یو کیمپس میں پارلیمنٹ حملے کے مجرم افضل گرو  کی یاد میں ایک جلوس کی قیادت کی تھی۔ افضل گرو کو  9 فروری  2013 کو پھانسی دے دی گئی تھی ۔چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پٹیالہ ہاس کورٹ ڈاکٹر پنکج شرما ، نے  کنیاکمار ، سید عمر خالد ، انیربن بھٹاچاریہ ، عاقب حسین ، مجیب حسین گیٹو ، منیب حسین گیٹو ، عمر گل ، رائس رسول ، بشارت علی اور خالد بشیر کے خلاف چارج شیٹ پر 15 مارچ کو طلب کر لیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی منظوری محکمہ داخلہ نے دی ہے ۔  نوجوانوں کو آئی پی سی سیکشن 124 اے (بغاوت)23 (رضاکارانہ طور پر تکلیف پہنچانے ، 465 جعلسازی، فسادات اور 120 بی مجرمانہ سازش کی دفعہ کے تحت الزامات کا سامنا  ہے۔