نئے وزیر خزانہ کیخلاف نیب اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نئے وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف نیب اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں۔

ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ یکم جون کو سماعت کرے گا۔

نئے وزیر خزانہ شوکت عزیز نے اپنے خلاف نیب اپیلوں کی جلد سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔

رجسٹسرار ہائیکورٹ نے اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی کاز لسٹ جاری کر دی۔ ساہیوال اور پیراں غائب ریفرنس میں شوکت ترین کی بریت کے خلاف نیب اپیلیں زیر التوا ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز حماد اظہر کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ مقرر کیا تھا۔ شوکت ترین وزیراعظم کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے پہلے سے ممبر تھے۔

نئے وزیر خزانہ شوکت ترین پیشے کے لحاظ سے ایک بینکر ہیں اور 1997 میں حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر رہ چکے ہیں۔ سال 2000 میں انہوں نے یونین بینک قائم کیا جسے بعد اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کو فروخت کر دیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں شوکت ترین سینیٹر اور وفاقی وزیر خزانہ بنے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں شوکت ترین سینیٹر اور وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ پیپلزپارٹی دور میں انہوں نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آوٹ پروگرام پر دستخط کیے اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا اختتام کیا۔

بہرحال، اپنے ذاتی ”سلک بینک” کو چلانے کے لیے انہوں نے وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔