چولستان کے تاریخی قلعہ جات

خیال یار۔

۔ خدا یار خان چنڑ
برصغیر میں وہ سلطنتِ درانی کے زوال کے دن تھے۔ عباسی خاندان نے اُچ شریف کے ارد گرد کا علاقہ فتح کر کے یہاں بہاولپور ریاست کی بنیاد رکھی۔ وہ اپنا شجرہ نسب عرب کے عباسی خلفا سے چلنے کے دعویدار ہیں۔
بہاولپور کا شمار برصغیر پاک و ہند کی خوشحال ریاستوں میں ہوتا تھا۔ 18ویں صدی کے اوائل سے قریباً ڈھائی صدیوں تک یہاں کے حکمران رہنے والے عباسی خاندان نے ایک طرف دارالخلافہ بہاولپور میں پُرآسائش محلات اور باغات تعمیر کیے تو دوسری طرف کالج، ہسپتال، سٹیڈیم، تفریحی مقامات اور لائبریریاں بھی بنوائیں۔
ان کی تعمیرات میں کئی آج بھی بہاولپور شہر اور اس کے باہر موجود ہیں۔ یہ تاریخ کے اُن اوراق کی مانند ہیں جن سے کئی کہانیاں اور یادیں عبارت ہیں۔
ریاست بہاول پور کا چھیاسٹھ لاکھ ایکٹر رقبے پر محیط صحرائی خطہ چولستان جو صادق آباد سے منچن آباد تک پھیلا ہوا ہے پوری دنیا میں مشہور ہے ۔
یہ صحرائی خطہ اپنے دامن میں کئی ایک تاریخی آثار اپنے وسیع دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ۔ روہی کے قلعے بھی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں مگر افسوس کہ زمانے کی دستبرد اور محمکہ آثار قدیمہ کی غفلت کے سبب اپنا وجود کھوتے جا رہے ہیں ۔ کئی ایک تو اب فقط تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہیں ۔ جو بچے ہیں وہ بھی بڑی تیزی کے ساتھ اپنا وجود گم کرتے جا رہے ہیں ۔ اس کالم کا مقصد ان کا فقط ذکر کرنا نہیں بلکہ ان سطور کے توسط سے ارباب بست و کشاد سے یہ المتاس کرنا بھی ہے کہ وہ اپنے فرض کو پہچانیں اور اس تاریخی ورثے کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کریں تاکہ آنے والی نسلیں اپنے آباء و اجداد کی نشانیوں کو بچشم خود دیکھ سکیں ۔
وادی ہاکڑہ یعنی بہاول پور ڈویژن میں چھوٹے بڑے پچاس تاریخی قلعوں کے آثار یا تذکرے ملتے ہیں ۔ پرانے قلعے کے کھنڈرات پر اکثر نئے قلعے تعمیر کیے جاتے رہے ہیں ۔ اکثریت چھوٹے قلعوں کی تھی جس کو سندھی میں گڑھی اور انگلش میں Fortress
کہا جاتا ہے ۔
ان قلعوں کے نام حسب ذیل ہیں
قلعہ پھولڑہ
قلعہ ونجھروٹ
قلعہ موندے شہید
قلعہ احمد پور شرقیہ
قلعہ ولہر
قلعہ بہاول گڑھ
قلعہ فتح گڑھ
قلعہ میر گڑھ
قلعہ دین گڑھ عرف ترہارا
قلعہ موج گڑھ
قلعہ مبارک پور
قلعہ قائم پور
قلعہ جام گڑھ
قلعہ خیر گڑھ
قلعہ خان گڑھ
قلعہ بہاول پور
قلعہ دھوئیں
قلعہ ماڑی
قلعہ ساہنوالہ
قلعہ پلولی
قلعہ ٹھٹھ وارن
قلعہ رام کلی
قلعہ کٹ سبزل
قلعہ گڑھی اختیار خان
قلعہ کنڈیرہ
قلعہ فاضل پور
قلعہ خان پور
قلعہ اسلام گڑھ
قلعہ بھاگلہ
قلعہ رکن پور
قلعہ لیارا
قلعہ صاحب گڑھ
قلعہ احمد پور لمہ
قلعہ سردار گڑھ
قلعہ مرید والا
قلعہ موچکی
قلعہ ججہ
قلعہ کوٹ سمابہ
قلعہ نوشہرہ
قلعہ تاج گڑھ
قلعہ بھٹہ واہن
قلعہ دیراور
قلعہ مروٹ
قلعہ مئو مبارک
۔۔۔
قلعہ ڈیراور
ایک ہندو پروہت موجی رام بیاس کی روایت کے مطابق جس کے بزرگ ڈیراور کے بھٹی راجاؤں کا خاندانی پروہت رہے تھے تذکروں میں درج ہے کہ ججہ اور دیو سنگھ دو بھٹی راجے تھے ۔ دیو سنگھ ججہ کا بھانجا تھا ۔ تین سو ہجری بمطابق آٹھ سو اٹھہتر عیسوی راجہ ججہ موجودہ خان پور اور تحصیل احمد پور شرقیہ کے علاقوں پر حکومت کیا کرتا تھا ۔ نو سو عیسوی میں مہاراجہ ججہ نے اپنے نام پر ایک قصبے کی بنیاد رکھی جو ابتک موجود ہے ۔ اس زمانے میں دریائے سندھ اس شہر کے قریب سے بہتا تھا ۔ جو اب دس میل مغرب کو ہٹ گیا ہے ۔
نو سو نو سے سترہ سو نوے تک یہ قلعہ دیور سول اور اس کے جانشینوں کے پاس رہا ۔ سترہ سو تینتیس میں نواب صادق محمد خان عباسی اول نے ڈیراور کا یہ قلعہ بھٹی راجاؤں سے چھین لیا ۔۔۔ یہ قلعہ اپنی تعمیر بناوٹ اور قدامت کے لحاظ سے پوری دنیا میں مشہور ہے ۔۔۔
قلعہ تاج گڑھ ۔۔
راج گڑھ کا قدیم قصبہ رحیم یار خان خان سے چار میل جانب شمال ایک بلند ٹھیڑ پر موجود ہے ۔ رانی ہران کے نامی پرجس نے اسکی بنیاد رکھی ۔ یہ رانی جیسلمیر کے راجہ کی اہلیہ تھی ۔ بعد میں یہی خاتون سید احمد دہلوی کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی ۔۔
قلعہ پھولڑہ
۔۔۔
فورٹ کے نئے شہر کے قریب دریائے ہاکڑہ کی قدم گزرگاہ کے کنارے یہ قلعہ اپنے عہد کی تاریخ اپنے سینے میں چھپائے کھڑا ہے ۔ قلعہ کے باہر تین کنویں ہیں جن کا پانی میٹھا ہے ۔
قلعہ احمد پور شرقیہ
۔۔۔
احمد پور شرقیہ میں چوک منیر شہید مشرق کی طرف بازار میں داخل ہوں تو چار سو گز کے فاصلے پر قلعہ احمد پور شرقیہ کا دروازہ پوری محراب کے ساتھ بازار میں موجود ہے ۔
قلعہ بہاول گڑھ
۔۔
قلعہ بہاول گڑھ ضلع بہاول نگر میں امیر بہاول خان ثانی نے سترہ سو اکانوے میں تعمیر کیا تھا ۔ قلعہ کی تعمیر سے پہلے اس جگہ کا نام مسافر خانہ تھا ۔
قلعہ خان گڑھ
امیر محمد بہاول خان ثانی نے گیارہ سو اٹھانوے میں ڈیراور سے تیس میل دور جانب جنوب مغرب یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا ۔
قلعہ کوٹ سبزل
کوٹ سبزل کا مختصر شہر و قلعہ زمین سے بیس فٹ بلند تعمیر کیا گیا ۔ اس تعمیر کا اہتمام سترہ سو چھپن میں وڈیرہ مندھو خان کہرانی نے کیا تھا ۔
قلعہ قائم پور
قصبہ قائم پور سترہ سو سینتالیس میں سردار قائم خاں عربانی نے آباد کیا تھا ۔قصبہ کے شمال میں دریائے ستلج بہتا ہے
قلعہ جام گڑھ
یہ قلعہ جام خاں سعروفانی نے بارہ سو تین ہجری میں تعمیر کرایا تھا اور اس مختصر قلعہ کی فصیل اور دمدموں کی بیرونی جانب پختہ اینٹوں کی چنائی کی گئی ہے ۔۔
قلعہ خیر گڑھ
اختار خاں کے فرزند حاجی خان گیارہ سو اسی ہجری میں اسے تعمیر کرایا تھا ۔ اور اس کا نام خیر گڑھ رکھا
۔۔۔
قلعہ مبارک پور
شہر فرید کے قریب گیارہ سو چوہتر میں نواب محمد مبارک خاں نے ایک خام مگر خوب صورت اور بلند قلعہ تعمیر کرایا ۔۔۔
قلعہ فتح گڑھ
نواب بہاول خان ثانی سے اسے تعمیر کرایا ۔ امروکہ ریلوے اسٹیشن سے پندرہ میل شمال مغرب میں واقع قلعہ کا نام نواب صاحب نے اپنے والد مرحوم فتح خان کے نام پر رکھا ۔چولستان بہاولپور کے تمام تاریخی قلعہ جات دریائے ہاکڑہ کے کنارے پر موجود تھے دریائے ہاکڑا کے دونوں اطراف بہت بڑی آبادیاں تھیں یہ چولستان شاد و آباد تھا دریائے ہاکڑا جب خشک ہو گیا تو آہستہ آہستہ یہ آبادیاں شہروں کا رخ کر گئی اور یہ تاریخی قلعہ جات سنسان ہو گئے اکثریت قلعہ جات اپنی اصل حالت کھو چکے ہیں کچھ بہتر حالات میں ہے حکومت پاکستان نے اس طرف توجہ نہ دی تو یہ قلعہ جات بھی اپنا وجود کھو دیں گے انے والی نسلوں کو ان قلعہ جات کا تذکرہ صرف کتابوں میں ملے گا دیکھ ناں سکیں گےاس لئے ان تاریخی اثاثوں کو بچانا بہت ضروری ہے