عالمی اداروں سے قرض لے کر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دینے کا طریقہ خطرناک ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ یہ طریقہ خطرناک ہے کہ حکومت، سرکاری ملازمین تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک سے قرض لے رہی ہے۔

محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا کے ملازم فضل مختار کی پینشن ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

عدالت نے فارسٹ گارڈ فضل مختار کی پینشن ادائیگی سے متعلق اپیل مسترد کر دی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا قاسم ودود سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری ادارے تنخواہیں اور پینشن دینے کے قابل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں سرکاری اداروں میں لوگوں کو ملازمتوں پر لگا کر بھر دیا گیا ہے اور پھر آپ کی حکومت آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرضے لے رہی ہے، یہ طریقہ خطرناک ہے کہ قرض لے کر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبر پختونخوا میں سرکاری نوکری کے علاوہ روزگار کے لیے دوسرا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے براہ راست فنڈز نہیں لے سکتے ہیں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی معیشت کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اسمگلنگ ہے، صوبے میں صنعت کو بڑھانے کے لیے اسمگلنگ روکنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو ختم کرنے کے لیے موثر اقدامات ضروری ہیں۔