انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی، پی ٹی آئی امیدوار کو نوٹس جاری

مظفرآباد میں انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک امیدوار اور اس کے دو حامیوں کے خلاف آزاد جموں و کشمیر کی دارالحکومت کے نواحی علاقے میں ایف آئی آر درج ہونے کے ایک روز بعد ضلع باغ میں ایک ریٹرننگ آفیسر نے پی ٹی آئی کے ایک اور امیدوار کو ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ایل اے 15، باغ ٹو میں پی ٹی آئی کے امیدوار سردار تنویر الیاس خان سے متعلقہ ریٹرننگ آفیسر نے بدھ کے روز صبح 11 بجے ان کے سامنے پیش ہونے اور وضاحت دینے کے لیے کہا کہ انہوں نے 4 جولائی کو 200 کے قریب گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ہری گہل سے اپنے حلقے کے کیپال گڑھ گاؤں تک کی ریلی کی قیادت کیوں کی، جس میں چند لاؤڈ اسپیکر بھی لگے تھے۔

ضابطہ اخلاق کے رول 4 (32) کے تحت انتخابی مہم کے لیے گاڑیوں کی ریلی اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ممنوع ہے۔

تنویر الیاس خان جو اب بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر ہیں، آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

اس سے قبل پیر کی شام الیکشن کمیشن نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ایل اے 28 مظفر آباد 2 میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار چوہدری شہزاد محمود اور 2 جولائی کو ان کے انتخابی حلقے دھرا مغلن گاؤں میں منعقدہ ان کی کارنر میٹنگ کے دو منتظمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق اتوار کے روز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی جس میں چوہدری شہزاد محمود کو ایک کارنر میٹنگ میں شریک دکھائی دیا جس کا اہتمام ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ظہور مغل اور ٹرانسپورٹر ممتاز مغل نے ’انتظامیہ یا پولیس اسٹیشن کو کسی قسم کی اطلاع کے بغیر کیا تھا جو ضابطہ اخلاق کے منافی ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’ویڈیو میں دیکھا گیا کہ (چند) اجلاس کے شرکا نے ہتھیاروں کی نمائش اور ہوائی فائرنگ بھی کی جو ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے، ابتدائی تفتیش کے بعد ہی دونوں واقعات پر انتظامیہ کی جانب سے تینوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا۔

دو افسران کی معطلی کا حکم

ایک متعلقہ پیشرفت میں الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ وہ کوٹلی میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں حصہ لینے پر ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال باغ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور محکمہ بلدیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو معطل کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دونوں کے خلاف انکوائری شروع کریں اور جلد ہی اس کی رپورٹ کمیشن کو پیش کرے۔

کمیشن کے مطابق تمام سیکرٹریز کو ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہونے اور انتخابی مہم سے گریز کرنے پر پابند رہنے کے لیے تمام سیکریٹریز کو اسٹینڈنگ آرڈرز دے دیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹریز کو فوری طور پر معطل کرنے اور سیاسی مہم میں ملوث پائے جانے والے ایسے تمام ملازمین کے خلاف قواعد کے تحت کارروائی شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

انتباہ جاری

الیکشن کمیشن نے ’چند اُمیدواروں اور ان کے کارکنوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایات کے تناظر میں تمام مقابلہ کرنے والی جماعتوں اور اُمیدواروں کو تازہ خطوط لکھے ہیں جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق پر عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق یقینی بنائے۔

کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ’خلاف ورزی خود اُمیدوار کی طرف سے ہو یا اس کے حامیوں یا مہمانوں کی طرف سے اسے اُمیدوار کا ہی عمل سمجھا جائے گا اور اس پر اصولوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی‘۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان سے آئے ہوئے سیاستدان اور معزز شخصیات بھی ترقیاتی اسکیموں وغیرہ کے اعلانات کے ساتھ ساتھ مہم کے دوران مخالفین کے بارے میں نامناسب تبصرے سے گریز کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ’اگر پاکستان سے آنے والے سیاسی رہنماؤں اور حکومتی عہدیداران نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی بھی اقدام کا سہارا لیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ ان کی میزبان پارٹی اور اُمیدوار کی جانب سے سرزد ہوا ہے اور اس کے بعد ان کے خلاف اصولوں کے تحت کارروائی ہوگی‘۔