نواز شریف اور حمد اللہ محب کی ملاقات افغان صدر کی درخواست پر ہوئی، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی درخواست پر نواز شریف نے افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب سے ملاقات کی تھی۔

انہوں نے ڈان نیوز کے شو ‘لائیو ود عادل شاہ زیب’ میں مذکورہ ملاقات کے بارے میں خصوصی تفصیلات شیئر کیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’افغانستان کے صدر اشرف غنی نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے لیے درخواست کی تھی، یہ دعوت نامہ 5 ماہ قبل آیا تھا‘۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملاقات طے ہونے کے بعد حمد اللہ محب کی طرف سے متنازع بیان سامنے آیا جس کی پاکستان نے مذمت کی اور یہ بہت اچھا ہوا، پورے پاکستان نے اس کی مذمت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’تاہم تعلقات دو ملکوں کے درمیان ہیں نہ کہ دو شخصیات کے درمیان‘۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وفد سابق وزیر اعظم سے ملنے آیا تھا اور یہاں تک کہ اگر کوئی آپ کا دشمن ہو اور آپ کے دروازے پر آتا ہے تو آپ ان سے ملتے ہیں جبکہ افغانستان ہمارا دوست ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حمداللہ محب ایک وفد کا حصہ تھے جو سفارتخانے کے عہدیداروں، وزرا پر مشتمل تھا اور انہوں نے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس ملاقات سے نواز شریف دوطرفہ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں اور مجھے اُمید ہے کہ اس میں بہتری آئے گی‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات پاکستان کے نقطہ نظر کے لیے ہے اور اس سے ملک کے مؤقف کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے 25 جولائی کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کی وجہ حمد اللہ محب سے نواز شریف کی ملاقات کو ٹھہرانے کے حکومتی دعوے کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات کے نتائج میں اس ملاقات کی عکاسی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہماری انتخابی مہم کے دوران کسی نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لندن میں افغان این ایس اے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات نے پاکستان میں شدید تنقید کی گئی تھی۔

اجلاس کی تصاویر کو افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) نے 24 جولائی کو ٹوئٹر پر جاری کیا تھا۔

اس ملاقات کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘نواز شریف کو پاکستان سےباہر بھیجنا اس لیے خطرناک تھا کہ ایسے لوگ بین الاقوامی سازشوں میں مددگار بن جاتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف کی افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سب سے بڑے حلیف حمداللہ محب سے ملاقات ایسی ہی کارروائی کی مثال ہے’۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘نریندر مودی، محب یا امراللہ صالح، ہر پاکستان دشمن نواز شریف کا قریبی دوست ہے’۔

وزیر مملکت شہریار آفریدی نے دعوٰی کیا تھا کہ ‘افغان این ایس اے کے ساتھ نواز شریف کی ملاقات نے پاکستان کے دشمنوں سے ان کے رابطوں کو ثابت کیا’۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس ملاقات نے ثابت کردیا کہ سابق وزیر اعظم پاکستانی مفادات کے خلاف استعمال ہونے والا آلہ تھے۔

افغان مشیر قومی سلامتی کے پاکستان کے خلاف ریمارکس

واضح رہے کہ گزشتہ مہینے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف ریمارکس پر حمداللہ محب پر تنقید کی تھی اور ان سے اپنے طرز عمل کی اصلاح’ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر ‘غور سے میری بات سنیں، پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ جو زبان استعمال کررہے ہیں یا الزامات لگارہے ہیں اگر اس سے باز نہیں آتے ہیں تو کوئی پاکستانی آپ سے ہاتھ نہیں ملائے گا یا آپ سے بات نہیں کرے گا’۔

وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ مئی میں صوبہ ننگرہار کے دورے کے موقع پر افغان قومی سلامتی کے مشیر کے ریمارکس کا جواب دے رہے تھے جس دوران افغان مشیر قومی سلامتی نے پاکستان کو ‘کوٹھا’ کہا تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ‘آپ کو شرم آنی چاہیے اور آپ کو اپنی باتوں پر شرمندہ ہونا چاہیے، ننگرہار میں آپ کی تقریر کے بعد سے ہی میرا خون کھول رہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اپنے طرز عمل کو درست کریں اور اس پر غور کریں، میں بین الاقوامی برادری سے یہ کہتا ہوں کہ اگر یہ طرز عمل جاری رہا تو پھر یہ شخص جو اپنے آپ کو افغانستان کا قومی سلامتی کا مشیر کہتا ہے حقیقت میں (امن کے لیے) ایک بگاڑ کا کردار ادا کرے گا’۔