فروغ نسیم نے میڈیا اتھارٹی بل کے بارے میں ‘اچھی خبر’ کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد: وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) بل کے مسودے کے حوالے سے ’اچھی خبر‘ کا عندیہ دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے ’اچھی خبر‘ سے متعلق مزید کچھ بھی کہنے سے گریز کیا اور کہا کہ چونکہ یہ معاملہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے دائرہ کار میں آتا ہے، اس لیے وہ بل میں مجوزہ تبدیلیوں کے بارے میں بات کریں گے۔

وفاقی وزیر کی جانب سے مذکورہ اشارہ میڈیا، سول سوسائٹی کے ہمراہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مجوزہ بل کی مخالفت کے پس منظر میں آیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے سربراہ سینیٹر فیصل جاوید، اور پینل کے دیگر ارکان نے منگل کو کہا تھا کہ اگر وہ اس کی افادیت سے مطمئن نہیں ہیں تو وہ ایوان بالا میں اسے مسترد کردیں گے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے سربراہ جاوید لطیف نے مجوزہ بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ کمیٹی کے اجلاس میں بل کے خلاف ووٹ دیں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کی پارٹی اپوزیشن کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دے گی تاکہ حکومت کو میڈیا کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے ’کالا قانون‘ متعارف کرانے سے روکا جا سکے۔

کمیٹی کو بل کے قانونی اور دیگر پہلوؤں کا تجزیہ کرنے اور حکمت عملی تجویز کرنے کا کام سونپا جائے گا۔

بدھ کو وزارت قانون میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ (پی اے ایس) کے نو منتخب ارکان کی تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک آزاد میڈیا کے لیے پرعزم ہیں اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے۔

پی اے ایس کے صدر امجد نذیر بھٹی کی جانب سے صحافیوں کے خدشات سے آگاہ کیا گیا تو وزیر قانون فروغ نسیم نے عندیہ دیا کہ مجوزہ بل پر اختلاف رائے کو ختم کیا جائے گا۔

انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ’اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں‘ سے بچیں اور جعلی خبروں کی حوصلہ شکنی کریں کیونکہ یہ ملک کے لیے نقصان ہے۔

انہوں نے ناول نگار ایڈورڈ بلور لٹن کے ایک مشہور اقتباس کو دہرایا کہ ’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے‘ اور کہا کہ انہوں نے قانونی پیشے میں شامل ہونے سے پہلے خود انگلینڈ میں ایک آزاد صحافی کے طور پر کام کیا۔

قانونی اصلاحات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وزارت قانون نے کریمنل پروسیجر کوڈ، قانون شواہد، پاکستان پینل کوڈ سمیت دیگر قوانین کے لیے 900 تک ترامیم تجویز کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترامیم جلد ہی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے اور پھر پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی۔

کرمنل پروسیچر کوڈ میں تجویز کردہ ترامیم میں ایک عدالتوں میں آڈیو اور ویڈیو ثبوت کو قبول کرنے سے متعلق ہے۔

ایک اور ترمیم ٹرائل کورٹ کے جج کو نگران اعلیٰ عدالت کے سامنے جوابدہ بناتی ہے اگر 9 ماہ کے اندر ٹرائل مکمل نہ ہو۔