برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ‘ریڈ لسٹ’ سے نکال دیا

انگلینڈ نے کورونا وائرس کے سبب بین الاقوامی سفری پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے پاکستان کو پانچ ماہ بعد ریڈ لسٹ سے نکال دیا ہے۔

برطانوی ٹرانسپورٹ سیکریٹری گرانٹ شیپس نے کہا کہ 22ستمبر کو شام چار بجے سے پاکستان، ترکی اور مالدیپ سمیت 8 ممالک اور خطوں کو ریڈ لسٹ سے نکالا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسافروں کو سہولت کی فراہمی کے لیے سفر کرنے والوں کے لیے ٹیسٹنگ کے عمل کو آسان بنایا جائے گا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی مکمل ویکسینیشن ہو چکی ہے تو چار اکتوبر سے آپ کو انگلینڈ آتے ہوئے روانگی سے قبل کووڈ-19 کا ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اس کا اطلاق ان مسافروں پر ہو گا جو ان ممالک سے سفر کررہے ہوں گے جو ریڈ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔

 

سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ چار اکتوبر سے برطانیہ اپنے ٹریفک لائٹ سسٹم کو ختم کررہا ہے جس کے تحت کم خطرات کے حامل ممالک کو گرین درجہ دیا جائے جس کی بدولت قرنطینہ کے بغیر سفر کی سہولت حاصل کر سکیں گے، درمیانے درجے کے خطرے کے حامل ممالک مسافروں کو امبر اور سنگین خطرات کے حامل مسافروں کو ریڈ درجہ دیا جائے گا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ 4 اکتوبر سے بین الاقوامی سفر کے لیے ایک آسانہ نظام وضع کیا جائے گا اور اس نئے مجوزہ نظام کے تحت ایک ریڈ لسٹ ہو گی جبکہ بقیہ ممالک کے لیے آسان قوانین تیار کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اس پابندی کی خبر پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے بھی ٹوئٹر پر شیئر کی۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہے ہیں کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ ان لوگوں کے لیے کس قدر مشکل تھے جو برطانیہ اور پاکستان کے درمیان اپنے قریبی روابط اور ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ وہ قریبی روابط برقرار رکھنے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، وفاقی وزیر اسد عمر اور پاکستان کی وزارت صحت کے بہت مشکور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا شیئرنگ اور دونوں ممالک کے عوام کے تحفظ کے لیے برطانیہ، پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور جب تک سب محفوظ نہ ہوں، اس وقت کوئی محفوظ نہیں۔

اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آخر کار پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کا صحیح فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسد عمر نے پاکستان میں کورونا کے حوالے سے صحیح معلومات پہنچانے پر برطانیہ کے ہائی کمیشن اور برطانوی پارلیمنٹیرینز کے کردار کو سراہا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس فیصلے کو مسافروں کے لیے بڑی خوشخبری قرار دیتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر اور برطانیہ کے حکومتی عہدیداروں کو بھی سراہا۔

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس سلسلے میں مثبت پیشرفت پر وزیر اعظم عمران خان کے سخت موقف، برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ اور معاون خصوصی برائے صحت کے ڈیٹا پر مبنی جوابات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ حکومت برطانیہ معاملات کو درست کرے۔

برطانوی لیبر پارٹی کے رکن اسمبلی اور ہاؤس آف کامنز کے شیڈو ڈپٹی لیڈر افضل خان نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح تھا کہ حکومت نے سیاست کو سائنس پر ترجیح دی، میں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کی ریڈ لسٹ کی حیثیت پر نظر ثانی کرے اور مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے اس بات پر غور کیا۔

انگلینڈ نے کورونا وائرس کی نئی قسم کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں رواں سال 9 اپریل سے پاکستان سمیت 4 ممالک کو پابندیوں سے متعلق ریڈ لسٹ میں شامل کرلیا تھا۔

اس کے بعد ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاؤ کے پیش نظر 19اپریل کو بھارت کو بھی ریڈ لسٹ میں شمال کر لیا گیا تھا۔