کووڈ 19 کی پیچیدگیوں اور وٹامن ڈی کی کمی میں تعلق ہے؟

کیا جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب سطح کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد میں بیماری کی سنگین شدت اور موت کے خطرے سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لیے متعدد ممالک کے سائنسدانوں کی جانب سے کام کیا جارہا ہے اور اب اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

 

آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج، اسکاٹ لینڈ کی ایڈنبرگ یونیورسٹی اور چین کی زیجیانگ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے متاثر ہونے سے قبل جسم میں وٹامن کی اچھی مقدار بیماری کی سنگین شدت اور موت کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق میں جسم میں جینیاتی طور پر وٹامن ڈی کی سطح ، سورج کی روشنی سے جلد میں وٹامن کی پروڈکشن اور کووڈ کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں وٹامن ڈی کی کمی اور وائرل و بیکٹریل نظام تنفس کی بیماریوں کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا تھا۔

اسی طرح کچھ مشاہداتی تحقیقی رپورٹس میں بھی کووڈ اور وٹامن ڈی کے درمیان تعلق کا ذکر کیا گیا، مگر یہ بھی خیال کیا گیا کہ یہ دیگر عناصر جیسے موٹاپے، زیادہ عمر یا کسی دائمی بیماری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے،

تحقیق میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو دیکھا گیا تھا جن میں کووڈ سے پہلے یو وی بی ریڈی ایشن کے اجتماع کو دیکھا گیا تھا۔

نتائج سے عندیہ ملا کہ وٹامن ڈی ممکنہ طور پر کووڈ کی سنگین شدت اور موت سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

محقین نے بتایا کہ نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوتا ہے کہ وٹامن ڈی سے ممکنہ طور پر کووڈ کی سنگین شدت سے تحفظ مل سکتا ہے، اس حوالے سے وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے کنٹرول ٹرائل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرائل کے ہونے تک وٹامن ڈی سپلیمنٹس کا استعمال محفوظ اور سستا طریقہ کار ہے جن سے بیماری کی سنگین پیچیدگیوں سے تحفظ ملتا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کے خلاف زیادہ مؤثر تھراپیز نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے خیال میں یہ اہم ہے کہ وٹامن ڈٰ کے حوالے سے سامنے آنے والے شواہد پر ذہن کو کھلا رکھا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے استعمال کے مشورے کو سپورٹ ملتی ہے جس سے نہ صرف ہڈیوں اور مسلز کی صحت کو درست رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ اس سے کووڈ کی پیچیدگیوں سے بھی ممکنہ تحفظ مل سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔