’امریکا، افغان سرحد سے ملحقہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر پاکستان سے بات کررہا ہے‘

پینٹاگون نے ایک مرتبہ پھر الزام لگایا ہے کہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں عدم استحکام پیدا کررہی ہیں اور امریکا ان ٹھکانوں کو ’بند کرنے‘ کے لیے پاکستانی قیادت سے بات چیت کررہا ہے۔

واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان ایف کربی نے کہا کہ ’ہم سب کو ان محفوظ ٹھکانوں کو بند کرنے اور انہیں طالبان یا دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کے ذریعے شورش پیدا کرنے کے لیے استعمال کی اجازت نہ دینے کی اہمیت کا مشترکہ احساس ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ذہن میں یہ بات بھی ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام اس علاقے سے نکلنے والی دہشت گردی کی سرگرمیوں کا شکار بنتے ہیں۔ر رہا ہے، ’افغانوں کے پاس گنجائش ہے، قابلیت ہے، ایک باصلاحیت ایئرفورس ہے‘۔

اس پر ترجمان پینٹاگون سے کہا گیا کہ وہ افغان ایئرفورس کے مسلح ہونے سے متعلق اپنے بیان کا ثبوت دیں کیوں کہ افغانستان کے 6 صوبائی دارالحکومت طالبان کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔

 

اس پر جان ایف کربی نے کہا کہ ’میرے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس 3 لاکھ سے زائد سپاہیوں اور پولیس کی طاقت ہے، وہ ایک جدید ایئرفورس ہے جس کے پاس جدید ہتھیار ہیں جبکہ ان کا ایک تنظیمی ڈھانچہ بھی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسے بہت سے فوائد ہیں جو طالبان کے پاس نہیں ہیں، طالبان کے پاس ایئرفورس نہیں ہے ان کے پاس ایئر اسپیس نہیں ہے۔

افغانستان میں بھارت کے کردار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں ’تربیت اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری‘ کی صورت میں افغانستان میں ایک ’تعمیری کردار‘ ادا کیا تھا۔

افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے ممکنہ کردار کے بارے میں ترجمان پینٹاگون کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ تمام ہمسایہ ممالک ایسی کارروائیاں نہ کریں جو افغانستان کی صورتحال کو مزید خطرناک بنادے‘۔

انہوں نے افغان سرزمین کے پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ اس جنگ کے پُر امن سیاسی تصفیے کے لیے بین الاقوامی دباؤ استعمال کرتے رہیں۔