پاکستان میں ایڈز اور باقی دنیا

ملک میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثر افراد کی تعداد 2 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے ایڈز ایچ آئی وی وائرس کی اخری اسٹیج کو کہا جاتا ہے اور اگر ایچ آئی وی کا علاج نہ کرایا جائے تو مدافعتی نظام تباہ ہوکر ایڈز کی شکل اختیار کر لیتا ہے 1981 میں منظر عام پر آنے والا یہ ایک ایسا مہک عارضہ ہے جو پاکستان میں تیزی سے اپنے قدم جما رہا ہے WHO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں ہر سال بیس ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے جو کہ ایک پریشان کن صورتحال ہے ایڈز کے مریضوں میں سے 1 لاکھ پنجاب 80 ہزار سندھ اور 13 ہزار ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں 31 فیصد خواتین اور 3 فیصد بچے شامل ہیں ڈپٹی ڈائریکٹر انفکشن کنٹرول سندھ ڈاکٹر ارشاد حسین کاظمی کے مطابق پاکستان میں ایڈز کے علاج کیلئے کل 45 سینٹرز موجود ہیں جن میں 16 سندھ میں ہیں جہاں رجسٹرڈ مریضوں میں سے صرف 22 فیصد افراد ہی علاج کے لیے آتے ہیں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پاکستان میں جہاں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہی ایچ آئی وی کے شکار افراد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال غیر رجسٹرڈ بلڈ بنک جنسی بیروا روی نوزائیدہ بچے کے والدین میں سے کسی کو یہ مرض ہونا اور طبی الات کو جراثیم سے پاک نہ کرنا شامل ہے پاکستان ایشیا میں دوسرا ایسا ملک ہے جہاں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے ایڈز کے زیادہ تر مریض سرنج کے ذریعے منشیات کے عادی افراد اور خواجہ سرا ہیں علاج نہ کروانے اور اس بیماری کو چھپانے کی بڑی وجہ ہمارے معاشرے کے منفی رویئے ہیں لوگ ایسے مریضوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایڈز زدہ افراد نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی نقصان دے ثابت ہوتے ہیں اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ صحت world health organization اس مرض کے خاتمے اور روک تھام کیلئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ایڈز کے زیادہ تر متاثرین کا تعلق ترقی پزیر اور غریب ممالک سے ہے افریقی ممالک میں یہ وبا زیادہ ہے ایڈز کی روک تھام کیلئے کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اور این جی اوز بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں جس میں سے سب سے نمایاں تنظیم ” نئی زندگی ” ہے اس تنظیم کے روح رواں جناب طارق ظفر کی خدمات تنظیم کے لیے ناقابل فراموش ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ اب تنظیمی امور سنبھال رہی ہیں اس ادارے میں AIDS اور HIV کے ساتھ ساتھ نشے کے عادی افراد کا بھی مفت علاج ہوتا ہے ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہوگا ایچ آئی وی انفکشن کو روکنے کیلئے کوئی ویکسین نہیں ہے اور نہ ہی ایڈز کا کوئی علاج ہے ایک بار جب کسی کو ایچ آئی وی ہوجاتا ہے تو یہ وائرس اس کے جسم میں زندگی بھر رہتا ہے لیکن ادویات کے استعمال سے آپ دوسرے لوگوں میں وائرس پھیلانے کے امکانات کم کر سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آگاہی بہت ضروری ہے اور اگر کسی شخص میں اس بیماری کی تصدیق ہوگئی ہے تو وہ فوری طور پر اپنا علاج شروع کروائے اس طرح نہ صرف وہ خود ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے اگے ایڈز کے پھیلاؤ کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے ۔
٭٭٭٭٭٭٭